" دنیا کا پل صراط "


"نماز کے وقت اس نجس کا یہاں ہونا ضروری ہے کیا..؟"

عکرمہ کو اس شرابی کا وہاں رکنا اچھا نہیں لگا جس کا اس نے اظہار بھی کر دیا..
 

مولانا کچھ کہے بنا جماعت کے لئے کھڑے ہو گئے.. نمازی آتے گئے.. جماعت کے بعد مولانا نے ایک چھوٹا سا خطبہ دیا..

"اگر اک کتا بھی دہکتی ہوئی آگ کی طرف جا رہا ہو تو آپ اسے روکیں گے..؟"

"روکیں گے نا..؟"مولانا نے سوال دہرایا..

"ہاں..!" سب نے مل کر جواب دیا..

"تو یہ لوگ جب جہنم کی آگ کی طرف جا رہے ہیں تو آپ کو ترس نہیں آتا..؟ دکھ نہں ہوتا..؟ یہ نفرت کہاں سے آگئی بیٹا..؟

اس دنیا میں دو طرح کے بیمار ہوتے ہیں.. ایک وہ جن کے جسم بیمار ہوتے ہیں.. دوسرے وہ جن کی روح بیمار ہوتی ہے..

ایک مریض کی عیادت کرو تو صبح سے شام ستر ہزار فرشتے دعائیں کرتے رہتے ہیں اور جو اس (بیمار روح والے ) کا علاج کرے' سوچو اس کو کتنا ثواب ہو گا..

یہ بھی روح کے روگی ہیں.. ان کی فکر کرو' ان پر ترس کھاؤ..!!"

" دنیا کا پل صراط "

Next PostNewer Post Previous PostOlder Post Home

0 comments:

Post a Comment