_____________ ایک واقعہ _____________
حافظ ابن قیمؒ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک گلی سے گزر رہا تھا۔ایک دروازہ کھلا، میں نے دیکھا کہ کوئی آٹھ نو سال کا بچہ ہے اور اسکی ماں
خفا ہوکر اسکے تپھڑ لگا رہی ہے ، اس کو دھکے دے رہی ہے تو نافرمان بن گیا
ہے، میری کوئی بات نہیں سنتا،کوئی کام نہیں کرتا،دفع ہوجا(چلاجا) یہاں سے۔
یہ کہہ کر ماں نے جو دھکا دیا تو وہ بچہ گھر سے باہر آگیا۔
فرماتے ہیں کہ....؛ ماں نے کنڈی لگالی، اب میں وہیں کھڑا رہ گیا کہ دیکھوں اب کیا ہوتا ہے؟
بچہ رو رہا تھا چونکہ مار پڑی تھی ، خیر وہ اٹھا ور کچھ سوچتا سوچتا ایک
طرف کو چلنے لگا،چلتے چلتے وہ گلی کے موڑ پر پہنچا، وہاں کھڑے ہوکر کچھ
سوچتا رہا پھر وآپس آنا شروع کردیا اور چلتے چلتے اپنے گھر کے دروازے پر
آکر بیٹھ گیا، تھکا ہوا تھا، رو بھی کافی دیر سے رہا تھا، دہلیز پر سر رکھا
،نیند آگئی ،وہیں سوگیا۔
چنانچہ کافی دیر کےبعد اسکی والدہ نے کسی کام
کیلئے دروازہ کھولا تو کیا دیکھتی ہے کے بیٹا دہلیز پر سر رکھے پڑا ہوا
ہے۔ والدہ کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا وہ پھر ناراض ہونے لگی اور کہنے
لگی؛" چلا جا یہاں سے دورہوجا میری نگاہوں سے" جب اس نے پھر اسے ڈانٹا تو
وہ بچہ کھڑا ہوگیا۔
آنکھوں میں آنسو آگئے کہنے لگا.............
"اماں ! جب مجھے تونے گھر سے دھتکار دیا تھا، میں نے سوچا تھا میں چلا
جاوٴنگا، میں بازار جاکر بھیک بھی مانگ لونگا،مجھے کچھ نہ کچھ کھانے کو بھی
مل جائے گا___________،
اماں میں نے سوچا تھا میں کسی کے جوتے صاف
کرلونگا، کسی کے گھر کا نوکر بن جاوٴنگا،مجھے جگہ بھی مل جائے گی،مجھے
کھانا بھی مل جائے گا۔ "
اماں : یہ سوچ کر میں گلی کے موڑ تک چلا گیا
تھا، مگر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ مجھے دنیا کی سب نعمتیں مل جائیں گی
لیکن اماں جو محبت مجھے تو دے سکتی ہے یہ محبت مجھے کہیں نہیں مل سکتی۔
اماں میں یہ سوچ کر وآپس آگیا ہوں، اماں میں اسی در پر پڑا ہوں تو مجھے
دھکے دے یا مارے ، میں کہیں نہیں جاٴونگا.
جب اس نے یہ بات کہی ، ماں
کی ممتا جوش میں آگئی اس نے بچے کو سینے سے لگایا اور کہا، میرے بیٹے ! اگر
تیرے دل میں یہ کیفیت ہے کے جو محبت تجھے میں دے سکتی ہوں وہ کوئی نہیں دے
سکتا تو میرے بچے..... میرا دروازہ بھی تیرے لئے کھلا ہے۔اس نے بیٹے کو
محبت سے اپنی آغوش میں چپھالیا۔
فرماتے ہیں........!
''جب گنہگار
بندہ اس احساس کیساتھ رب کے دروازے پر آتا ہے اور اپنے گناہوں کا اقرار
کرتا ہے، اپنے ربّ سے معافی مانگتا ہے، اس سے رحم کی امید رکھتے ہوئے، سچی
توبہ کرتا ہے تو پھر پروردگار بھی اسی طرح اپنی رحمت کےدروازے کھول دیتا
ہے۔''
ربِ کریم ہمیں بھی سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے، اور آنےوالے وقت کو گزرے وقت سے بہتر بنائے۔ آمین۔
ماخوذ۔ (گناہوں سے توبہ کیجئے)
0 comments:
Post a Comment