بے حس عوام


ایک بادشاہ نے مرتے وقت اپنے ولی عہد کو وصیت کیکہ بیٹا اگر اطمینان سے حکومت کرنا چاہتے ہو تو عوام کو کبھی سکون کا سانس مت لینے دینا .
بیٹے نے ویسا ہی کیا اور اقتدار میں آتے ہی درجنوں ٹیکس لگا دیے ، وزیروں کے مشورے بھی شامل حال تھے. کچھ عقلمندوں نے بادشاہ سے کہا کہ حضور بس کیجئے ، ایسا نہ ہو کہ لوگ بغاوت پر اتر آئیں.
وہ بولاکہ بیو قوفو اگر لوگ تنگ ہوں گے تو بولیں گے، مگر یہ لوگ تو چپ ہیں، اس کا مطلب ہے مزے میں ہیں۔
وقت گزرتا گیا بادشاہ کی “جمہوریت” بڑھتی گئی. آخر اس نے ایک نیا قانون بنا دیا کہ جو بھی شہر سے باہر کسی بھی کام سے جاۓ گا ، وہ سرکاری اہلکار سے دو تھپڑ کھا کر باہر جاۓ گا. اور جو شہر کے اندر آے گا وہ بھی دو تھپڑ کھا کے اندر آے گا.
اس قانون کے بعد بہت سے لوگوں کا خیال تھا اب تو لوگ ضرور بغاوت کر دیں گے، یہ قانون اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہو گا، لیکن عوام پھر بھی نہ بولے.
اس پربادشاہ نے ایک جلسہ کرنے کا سوچا. بہت لوگوں نے کہا کہ بادشاہ سلامت عوام کے سامنے مت جائیے، لوگ آپ کے قوانین سے بہت تنگ ہیں لیکن بادشاہ نہ مانا. اس نے جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “میں آپ کے لئے بہت کچھ کیا ہے . آپ کی محبت مجھے دن میں سونے نہیں دیتی، آپ کی محبت میں میں رات کو اندھا ہو جاتا ہوں ٹھیک سے دیکھ نہیں سکتا. آپ کے لئے بہت کچھ کرنے کا سودا ابھی میرے دل میں ہے. لیکن اگر آپ کو مجھ کوئی شکایت ہو تو کہیے، میں دور کروں گا ۔
جو لوگ ساتھ آۓ تھے، سوچنے لگے کہ اب تو بادشاہ سلامت گئے، لوگ ان کی اور ہماری تکہ بوٹی کر دیں گے. لیکن کوئی بھی نہ آگے بڑھا،
بادشاہ کے اصرار پر ایک بوڑھا اٹھا اور کہنے لگا کہ حضور آپ نے جو “تھپڑ قانون” بنایا ہے، اس کی وجہ سے بہت پریشانی ہے.
بادشاہ نے کہا کہ بڑے میاں کیا اس قانون کو ختم کر دیا جائے؟ بڑے میاں بولے کہ حضور پریشانی قانون کیا وجہ سے نہیں ہے، بلکہ پریشانی تو اس وجہ سے ہے کہ بہت سے لوگ شہر سے باہر محنت مزدوری کرنے جاتے ہیں اور نوجوان لڑکے بالے ہمیں دھکے دے کر زور لگا کر پہلے تھپڑ کھا کر چلے جاتے ہیں اور ہم بوڑھے پیچھے رہ جاتے ہیں، اور کام نہیں حاصل کر پاتے،
واپسی پر بھی ایسے ہی ہوتا ہے ، قانون میں یہ تبدیلی کر دیں کے بوڑھوں کو پہلے تھپڑ مارے جائیں یا پھر تھپڑ مرنے والے اہلکاروں کی تعداد بڑھا دیں ۔
کيا ہماری حالت بھی ايسی نہيں ہو گئ کہ ہم غلط بات کو غلط کہنے کے بجاۓ ، اسکے خلاف احتجاج کے بجاۓ اس غلط بات ميں خود کو ايڈجسٹ کرنے کی کوشش کرتے ہيں ؟

Next PostNewer Post Previous PostOlder Post Home

0 comments:

Post a Comment