کل رات خاندان میں ایک تقریب تھی، رات کو سب لوگ جمع تھے، یہی کوئی رات تین کا وقت ہوگا کہ سب کو چائے کا شوق ہوا۔
میں نے کہا کہ اس وقت کون اتنی ساری چائے بنائیگا، میں باہر ہوٹل سے چائے لے آتا ہوں۔
میں باہر نکلا، رات کے اس پہر اکثر ہوٹل بند تھے لیکن گلشن اقبال بلاک 13 ڈی کے پاس پٹھان بھائی کا ایک ہوٹل کھُلا مل گیا،
خان صاحب سے تیس (30) چائے پارسل کا کہا۔
وہ چائے بنا بنا کر تھیلی میں ڈالتا رہا، اور پھر ساری تھیلیاں ایک بڑی تھیلی میں جمع کر کے رکھ دیں۔
میں پیسوں کی ادائیگی کر چکا تھا۔
سو بڑی تھیلی اٹھا کر جانے ہی والا تھا کہ اچانک پٹھان نے کہا
رُک جاؤ بھائی!!
ابھی چار چائے رہ گیا ہے!!
بنا رہا ہوں، بنا کر ڈالتا ہوں
میں نے کہا یار خان اگر میں لے بھی جاتا تو مجھے کون سا پتا لگنا تھا؟!!!
کہنے لگا کہ گھر جا کر آپ کو تو پتا نہیں لگنا تھا لیکن اوپر جا کر مجھے پتا لگ جانا تھا!!!
اس کا یہ جملہ سن کر میں فرطِ مسرت سے جھوم اُٹھا۔
کاش آج ہر کوئی اپنے بھائی کو دھوکہ دینے سے پہلے یہی سوچ لے کہ ممکن ہے اس کو پتا نہ لگے لیکن اللہ کو تو پتا ہے نا!!!
0 comments:
Post a Comment